بادہ فروش

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ساقی، پیر مغاں؛ شرابی۔  شبنم کی بوند میں مئے عرفاں کا جوش ہے ہر برگ گلستاں کف بادہ فروش ہے      ( ١٩٦٥ء، اطہر، گلدستۂ اطہر، ٤٤:٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'بادہ' کے ساتھ مصدر فروشیدن سے مشتق صیغۂ امر 'فروش' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بادہ فروش' مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٢ء میں "مرآۃ الغیب" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر